بین الاقوامی تحریک برائے آزادی فلسطینی ممبران پارلیمان نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی حکام پر دبائو ڈال کر فلسطینی قانون ساز کونسل کے سپیکر ڈاکٹر عزیز دویک اور دوسرے ممبران کونسل کو رہا کروایا جائے۔
تحریک نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اس قزاقی کے عمل سے اس کے مجرمانہ ذہن کی عکاسی ہوتی ہے جس کے تحت وہ فلسطینی قانونی حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
تحریک نے عرب، اسلامی اور بین الاقوامی پارلیمنٹس اور انسانی حقوق کے اداروں کو بھیجے گئے خطوط میں مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل پر دبائو ڈالیں تاکہ وہ فلسطینی پارلیمانی استشنیٰ کی دھجیاں بکھیرنے سے باز آجائے۔
اس موقع پر احرار سنٹر برائے اسیران کے سربراہ فواد الخفش نے شالیت تبادلہ معاہدے کے تحت رہا ہونیوالے 50 سابق اسیران کو دوبارہ حراست میں لینے کی اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کی۔
فواد نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ اسرائیل نے حماس کے نائبین، رہنمائوں اور کارکنوں کو حراست میں لے کر اس کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے اور اسرائیل نے مصری ثالثی میں حماس کے ساتھ ہونے والے تمام معاہدوں کو توڑ دیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
