فلسطینی قانون ساز کونسل نے جنوبی افریقہ کی پارلیمنٹ کی جانب سے فلسطینی عوام کی حمایت میں آنیوالی تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک بین الاقوامی پارلیمنٹری لابی کے قیام کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اسرائیل کو تنہا کیا جاسکے۔
فلسطینی قانون ساز کونسل کے فرسٹ ڈپٹی سپیکر ڈاکٹر احمد بحر نے جنوبی افریقہ کی پارلیمنٹ کی جانب سے مسئلہ فلسطین اور قومی مفاہمت کی حمایت میں پیش کی جانیوالی تجاویز کا خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر انہوں نے خاص طور پر اسرائیلی بستیوں میں تیار کی جانیوالی مصنوعات کے بائیکاٹ اور فلسطینیوں کے جنوبی افریقہ کے سفر کے لئے کی جانیوالی آسانیوں کی تعریف کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان تجاویز سے فلسطین اور جنوبی افریقہ کے اچھے تعلقات ثابت ہوتے ہیں اور یہ تجاویز مسئلہ فلسطین اور اس کے قانونی حقوق کی فراہمی پر زور دیتی ہیں۔
جنوبی افریقہ کے پارلیمانی پورٹ فولیو کمیٹی نے چھ فروری کو فلسطینی، مغربی صحارا اور کیوبا کے عوام کی حمایت میں کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔ اس کانفرنس نے فلسطین سے متعلق کئی قراردادیں اور تجاویز پیش کی تھیں:
۔ جنوبی افریقہ قانون روم برائے بین الاقوامی عدالت انصاف کے تحت جنگی جرائم سے نمٹنے کے لئے ایک خصوصی کورٹ کی تشکیل کا پابند ہے، اس کورٹ کو جلد از جلد تشکیل دیا جائے گا۔ جنوبی افریقہ کو تیزی سے غزہ ڈاکٹ اور اسرائیلی فوج میں بھرتی جنوبی افریقی شہریوں سے نمٹنا پڑے گا۔
۔ جنوبی افریقی حکومت اور پارلیمنٹ کو سنہ 2009ء کی ہیومن سائنسز ریسرچ کونسل کی رپورٹ کو اپنانا چاہئیے ہے جس میں اسرائیل کو نسلی تعصب کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کو بین الاقوامی اداروں کے سامنے بھی اٹھانا چاہئیے ہے جن میں بین الاقوامی پارلیمانی یونین، عالمی عدالت انصاف، اقوام متحدہ اور افریقی یونین شامل ہیں۔
– جنوبی افریقہ کی قانونی ذمہ داری ہے کہ اسرائیلی یہودی بستیوں میں قائم کمپنیوں کے ساتھ تمام تر معاشی معاملات کو ختم کرنا ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ یہودی بستیوں میں سرمایہ کاری کرنے والے بینکوں اور کمپنیوں سے بھی فاصلہ رکھنا ہوگا۔
۔ عالمی سطح پر جنوبی افریقہ کو غیر قانونی اسرائیلی قبضہ کے خاتمے کے بعد فلسطینی ترقی کے لئے معاشی اور دوسری تمام اقسام کی امداد کرنی ہوگی۔
۔ جنوبی افریقی حکومت کو فلسطینی طلباء کی مدد کرنی چاہئیے ہے جیسے 1980 کے دوران انڈیا، کیوبا اور دوسرے ممالک نے جنوبی افریقیائی طلباء کی مدد کی تھی۔
۔ فلسطینیوں کے جنوبی افریقا میں داخلے کو مزید آسان بنانا ہوگا۔
۔ فلسطینی محکمہ صحت کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائیگی اس کے علاوہ مغربی کنارے، غزہ اور مہاجر کیمپوں میں بھی تعمیرات میں معاونت کی جائیگی۔
۔ کانفرنس مروان برغوثی اور دوسرے تمام فلسطینی سیاسی قیدیوں کے رہائی کے لئے رابن آئی لینڈ اعلامیے کی حمایت کرتی ہے۔
۔ کانفرنس فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کے بائیکاٹ، سرمایہ کاری کی واپسی اور پابندیوں کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے۔
۔ جنوبی افریقہ کی تمام سیاسی جماعتوں کو فلسطینی عوام کے مسئلہ پر ایک واضح موقف اختیار کرنا چاہئیے ہے اور اس موقف کا اعلان 2014 الیکشن سے قبل ہوجانا چاہئیے ہے۔
۔ فلسطینیوں کی حمایت میں دوروں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئیے ہے۔
۔ جنوبی افریقہ کو فلسطینی عوام کی حمایت میں ایک بین الاقوامی سفارتی بلاک بنانا اور مضبوط کرنا چاہئیے ہے۔
۔ فلسطینی مفاہمتی کوششوں کی حوصلہ افزائی اور حمایت کی جانی چاہئیے ہے۔
۔ جنوبی افریقی حکومت اور پارلیمنٹ کو ان مندرجہ بالا نکات کو افریقی یونین، اقوام متحدہ اور عالمی پارلیمانی یونین کے سامنے پیش کرنا چاہئیے ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
