مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مراکشی وزیرخارجہ نے ان خیالا ت کا اظہار جمعرات کو اپنے دورہ فلسطین کے دوران رام اللہ میں اپنے فلسطینی ہم منصب ریاض المالکی سے ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مراکش ماضی میں بھی دوسرے عرب ممالک کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی یہ حمایت بدستور جاری و ساری رہے گی۔
صلاح الدین مزوار کا کہنا تھا کہ آزاد فلسطینی ریاست فلسطینی قوم کا ایک جائز اور قانونی مطالبہ ہے اور پوری دنیا فلسطینیوں کے اس مطالبے کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے فلسطین میں اسرائیل کے مظالم کی مذمت کی اور کہا کہ نہتے فلسطینیوں کے قتل عام اور ان کی خون ریزی کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔
قبل ازیں مراکشی وزیرخارجہ نے صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہ نمائوں کے مابین ہونے والی ملاقات میں مسئلہ فلسطین کی موجودہ صورت حال، غزہ کی پٹی کی ما بعد جنگ تعمیر نو اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر بھی بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ وہ سنہ 1967ء کی جنگ میں اسرائیلی قبضے میں آنے والے فلسطینی علاقوں پر مشتمل ایک آزاد اور مکمل خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے خواہاں ہیں جس میں بیت المقدس کو دارالحکومت کا درجہ حاصل ہو۔
صلاح الدین مزوار نے مراکشی فرمانروا کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کو ایک مراسلہ بھی پہنچایا۔ اس میں شاہ مراکش شاہ محمد ششم نے غزہ کی پٹی میں صہیونی فوج کی حالیہ ریاستی دہشت گردی کی مذمت اور فلسطینیوں سے مکمل اظہار یکجہتی کیا گیا ہے۔
مزوار نے کہا کہ شاہ مراکش القدس کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور وہ بیت المقدس اور اہالیان بیت المقدس کی صہیونی قبضے کے خلاف جد و جہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔
