مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق فلسطینی پراسیکیوٹر جنرل عبدالغنی العویوی نے 15 جون کو باضابطہ طورپر ایک حکم جاری کیا تھا جس میں سابق وزیراعظم سلام فیاض کی ملکیتی تنظیم کے اثاثے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق سلام فیاض کی فلاحی تنظیم پر منی لانڈرنگ اور مشکوک ذرائع سے رقوم کے حصول سمیت بدعنوانی کے کئی دوسرے الزامات بھی عاید کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب سلام فیاض نےاپنا موقف بتاتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ مقامی خبر رساں ایجنسی "وطن نیوز” سے بات کرتے ہوئے سلام فیاض کا کہنا تھا کہ "فلسطین ٹو مار ڈویلپمنٹ” فائونڈیشن مکمل طور پرآئین اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے فنڈز حاصل کرتی اور انہیں استعمال کرتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر سلام فیاض کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم ان دنوں بیت المقدس میں تعمیرو ترقی کے منصوبوں، مقبوضہ فلسطین کے بدوئوں کی بحالی اور مغربی کنارے کے سیکٹر D میں زرعت اور آب پاشی کے منصوبوں پر کام کررہی ہے۔ ایسے حالات میں جب کہ تنظیم کئی ترقیاتی اور فلاحی کام کررہی ہے اس کے اثاثے ضبط کرنے کا حکم دینا افسوسناک ہے۔
سلام فیاض کا کہنا تھا کہ تنظیم کو جہاں سے بھی فنڈز مل رہے ہیں۔ ان کا شفاف طریقے سے حساب رکھا جاتا ہے۔کہیں بھی بدعنوانی یا مالی بے قاعدگی نہیں کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سلام فیاض کی تنظیم کے جن اثاثوں کی ضبطی کا حکم دیا گیا ہے ان میں سے بیشتر متحدہ عرب امارات کے ہلال احمر ادارے کی جانب سے دیے گئے ہیں۔
بعض مبصرین سلام فیاض کی تنظیم کے اثاثوں کے خلاف پراسیکیوٹر جنرل کی کارروائی کو سیاسی اختلافات کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ جس طرح ماضی میں حکمراں جماعت "تحری فتح” کے منحرف رہ نما محمد دحلان کے اثاثے ضبط کیے گئے تھے اسی طرح اب سلام فیاض کے خلاف بھی مہم شروع ہو رہی ہے۔ کیونکہ پچھلے کچھ عرصے سے سلام فیاض اور صدر محمود عباس کے درمیان بھی سیاسی محاذ آرائی کی اطلاعات آتی رہی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
