(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک فلسطینی طالب علم نے جس کا نام صبحی رقیق ہے، صرف سترہ دن میں پورا قرآن کریم حفظ کرلیا ہے۔
اس فلسطینی طالب علم نے یہ کارنامہ مغربی ملکوں میں پیغمبراسلام کی شان میں ہونےوالی اہانت کے جواب میں انجام دیاہے-یاد رہے کہ جس وقت مغربی ملکوں میں پیغمبراسلام کی اہانت کی گئی تھی اس کے جواب میں بہت سے فلسطینی نوجوانوں نے قران کریم کوحفظ کرنا شروع کردیا تھا – اس واقعے کے بعد غزہ میں قرآن کریم کو حفظ کرنے کی ایک تحریک شروع ہوگئی تھی اوراس کی ترغیب فلسطینی تنظیموں نے بھی دلائی تھی –
فلسطینی طالب علم صبحی رقیق کا کہنا ہے کہ میں نے بھی قرآن کریم کےحفظ کی کلاس میں داخلہ لیا اورپھر میں نے حفظ شروع کردیا – صبحی رقیق کا کہنا ہے کہ وہ ہرروز قرآن کریم کے پچیس سے تیس صفحات حفظ کرتاتھا –
مذکورہ فلسطینی حافظ قرآن کا کہنا ہے کہ میرے اس کام سے سبھی کو حیرت ہوتی تھی –
صبحی رقیق کا کہنا ہے کہ قرآن کریم کو حفظ کرنے کا یہ کارنامہ ان سبھی لوگوں کو براہ راست جواب ہے جو اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ کو بگاڑ کر پیش کرنا چاہتے ہیں –
فلسطینی حافظ قرآن اور طالب عالم صبحی رقیق کا کہنا ہے کہ اس کو قوت حافظہ اللہ کی طرف سے عطا ہوئی ہے اور میں اس الہی عطیے سے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو مستحکم بنانے کے لئے استفادہ کروں گا –
انہوں نے کہا میں اپنی اس صلاحیت سے دینی ، سائنسی اور اکیڈمک سبھی طرح کی تعلیم حاصل کروں گا اورخداوندعالم کی مدد و نصرت سے فلسطینی بچوں کی تربیت کروں گا۔
اس فلسطینی نوجوان کے والد کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے کی قوت حافظہ ہم سب لوگوں کے لئےحیرت کا باعث تھی –
