رپورٹ کے مطابق فلسطین میں انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے صحافی محمد القیق کو زبردستی خوراک دینے اور اس کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔
فلسطینی انسانی حقوق مرکز کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی کسی بھوک ہڑتالی شہری کی ہڑتال زبردستی ختم کرانے کا کوئی اصول موجود نہیں ہے۔ طاقت کے استعمال سے کسی کو خوراک نہیں دی جاسکتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیاہے کہ وہ بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی صحافی کی زندگی بچانے کے لیے اسرائیل پردباؤ ڈالے۔
خیال رہے کہ فلسطینی صحافی محمد القیق کی بھوک ہڑتال کو 51 دن ہوگئے ہیں۔ گذشتہ روز اسرائیلی فوجیوں نے اس کی بھوک ہڑتال زبردستی ختم کرانے کےلیے اسے ناک کے راستے سے خوراک دینے کی مذموم کوشش کی گئی تھی۔
فلسطینی صحافی پچھلے دو ماہ سے اسرائیلی فوج کی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے اپنی بلا جواز گرفتاری اور دوران حراست تشدد کے خلاف پچاس روز قبل بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ چالیس دن تک بھوک ہڑتال کےبعد القیق بے ہوش ہونے کے بعد کومے میں چلے گئے تھے۔ انہیں ہوش میں لانے کے لیے اسرائیلی فوج نے انہیں زبردستی خوراک دینا شروع کردی ہے۔
