اسرائیلی اخبار "ہارٹز” کی رپورٹ کے مطابق یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچی ہے کہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں ترقومیا چیک پوسٹ پر قتل ہونے والے فوجی افسر باروکھ مزراحی کا تعلق فوج کی اس یونٹ سے تھا جو اندرون اور بیرون ملک حتیٰ کہ براعظم ایشیا، یورپ اور افریقا میں لوگوں کے موبائل، انٹرنیٹ، ای میل اور دیگر رابطوں کی نگرانی کرتی ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ اس یونٹ سے ریٹائرڈ ہونے والوں کو فارغ نہیں چھوڑا جاتا بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان سے کام لیا جاتا ہے۔ انہیں اس کے بعد بھی حساس عہدے دیے جاتے ہیں، جن میں سپریم کورٹ کا جج، وزارت خزانہ کا سیکرٹری، کسی اخبار کا چیف ایڈیٹر، کسی مشہور کمپنی کا ڈائریکٹر، حکمراں اتحاد کا سربراہ یا مشہور کومیڈین جیسے منصب دیے جاتے ہیں۔
عبرانی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یونٹ 8200 اسرائیلی فوج کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے آلات کی تیاری اور اس شعبے میں ہونے والی ترقی کا اولین ادارہ ہے، جس کے مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی آئی ٹی فرموں کے ساتھ براہ راست روابط ہیں۔
