فلسطین میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی تنظیموں کے کارکنان نے مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں "بنی الیعازر” یہودی کالونی کی طرف جانے والے مرکزی راستے کو بلاک کردیا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ایک مقامی سوشل ورکر محمد بریجیہ نے بتایا کہ 35 سماجی کارکنوں نے یہودی کالونی کی طرف آنے والے راستے پر دھرنا دے رکھا تھا، جس کے بعد یہودی کالونی کی طرف آنے والی تمام ٹریفک بند ہوگئی تھی۔
یہودی آباد کاروں کی کچھ گاڑیاں فلسطینی کارکنوں کے پاس سے گذرنا چاہتی تھیں لیکن انہوں نے سڑک پر کھڑے ہو کر انہیں آگے جانے سے روک دیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ جیسے ہی یہودیوں کی کوئی گاڑی ان کی طرف بڑھتی وہ پرچم لہرانا شروع کردیتے۔ کئی گھنٹے بعد یہودی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان کےخلاف کریک ڈاؤن کیا، جس کے نتیجے میں مظاہرین کو منتشر ہونا پڑا۔ تاہم کسی فلسطینی شہری کی گرفتاری کی کوئی اطلاع نہیں مل سکی ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی سماجی کارکنوں کی جانب سے گذشتہ کچھ عرصے سے مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری اور غیرقانونی توسیع پسندی کےخلاف احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ تیز کردیا گیا ہے۔ یہودی کالونی کی طرف جانے والے مرکزی روڈ بلاک کرنا بھی انہی سرگرمیوں کا حصہ تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
