فلسطینی شہر مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی فوجیوں کی جانب سے ایک مقامی فلسطینی شہری کے ہوٹل پر مبینہ قبضے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔ جنوب مشرقی بیت المقدس میں واقع ہوٹل مقامی فلسطینی شہری عیاد کی ملکیت ہے، جس پر اسرائیلی فوج نے قبضے کی ناکام کوشش کی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عیاد کے وکیل نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے ابودیس کےمقام پر اس کے موکل کے ایک ہوٹل پرقبضے کے لیے ہوٹل کے آس پاس کھدائی شروع کی۔ ہوٹل کے مالک سے کہا گیا کہ وہ ہوٹل خالی کرے کیونکہ صہیونی فوج کے ریکارڈ میں یہ املاک متروکہ میں شامل ہے۔ املاک متروکہ پر صرف اسرائیلی حکومت کا حق ہے۔ ہوٹل کے فلسطینی مالک نے وکلاء کی مدد سے فوری طورپر عدالت سے رجوع کیا اور بتایا کہ وہ خود ہی ہوٹل کامالک ہے لیکن صہیونی حکام اسے املاک متروکہ قرار دے کر چھیننا چاہتے ہیں۔ اس پرعدالت نے صہیونی حکام اور فوج کے وکیل کو طلب کرکے ہوٹل کے گرد و پیش میں کسی قسم کی کھدائی اور تعمیراتے سے منع کر دیا۔
ادھر حلوہ۔ سلوان انفارمیشن سینٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ حال ہی میں صہیونی فوج نے بیت المقدس کی اسرائیلی بلدیہ کے تعاون سے ابو دیس کے مقام پر ایک فلسطینی شہری کے ذاتی ہوٹل کے ارد گرد سینمنٹ کے بھاری بلاک رکھ کر اس کا محاصرہ کر لیا تھا۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ یہاں پر ایک دیوار کی تعمیر کر رہے ہیں لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ ہوٹل پرقبضے کی کوشش کر رہے تھے۔ فلسطینی ہوٹل مالک کے وکیل نے بتایا نہ یہ ہوٹل کئی سال پرانا ہے۔ اسرائیلی حکام سنہ 1996ء کے بعد سے اس پر مسلسل قبضہ کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے لیکن صہیونیوں کا یہ خواب ابھی پورا نہیں ہوا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
