فلسطینی شہیدوں اور اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل قیدیوں کے بچوں کے ایک وفد نےحال ہی میں تیونس کے صدر ڈاکٹر منصف المرزوقی سے ملاقات کی۔
اس موقع پر تیونس نے صدر نے فلسطینی بچوں کے اس پچاس رکنی وفد کے ساتھ مکمل ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تیونس فلسطینیوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور فلسطینی مظلوم عوام کا مقدمہ پوری دنیا کے تمام فورمز پر لڑا جائے گا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی شہداء اور اسیران کے بچوں کو تیونسی صدر نے خود ہی دعوت پر بلایا تھا، جس کے بعد مقبوضہ بیت المقدس، مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی سے منتخب پچاس بچوں کے ایک وفد کو تیونس بھیجا گیا تھا۔ اس وفد نے تیونس میں دس دن تک قیام کیا اور واپسی سے قبل ان کی ملاقات تیونس کے صدر ڈاکٹر منصف المرزوقی سے بھی کرائی گئی۔ تیونس کے صدر سے ملاقات کے وقت بچے نہایت خوش تھے۔ انہوں نے تیونسی حکومت اور صدر کا فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کے عزم پر شکریہ ادا کیا۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تیونسی صدر کے سیاسی مشیر اور عالمی امور نے نگران انور المغربی نے کہا کہ فلسطین سے شہداء اور اسیران کے بچوں کو صدر ڈاکٹر منصف المرزوقی نے خود ہی دعوت پر بلایا تھا، اس دعوت اور ملاقات کا مقصد مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا تھا۔ المغربی نے کہا کہ فلسطینی اسیران کے بچوں سے ملاقات کے دوران صدر نے اسرائیل جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جیلوں میں کوئی فلسطینی مجرم کے طورپر قید نہیں بلکہ تمام فلسطینی اپنے جائز حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
فلسطینی شہداء اور اسیران کے بچوں کے دورہ تیونس کے دوران ان کی کئی دوسرے اہم حکومتی عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ اس کے علاوہ انہیں تیونس میں سیاحتی مقامات پربھی لے جایا گیا۔ تیونس کے سماجی اور عوامی حقلوں نے بھی فلسطینی شہداء اور اسیران کے بچوں سے اپنی محبت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ عام تیونسی شہریوں کی طرف سے بچوں کو تحائف بھی دیئے گئے۔
