مرکزاطلاعات فلسطن کے مطابق فلسطین کی نمائندہ سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر محمود عباس کی جانب سے تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کے چنائو کے لیے نیشنل کونسل کا اجلاس بلانے کا فیصلہ قوم کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔
بیان میں صدر محمود عباس پر زور دیا گیا ہے کہ وہ قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے قومی نوعیت کے تمام اہم فیصلے اتفاق رائے سے طے کریں اور تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لینےاور انہیں فیصلوں میں شریک کرنے کا جمہوری طرز عمل اپنائیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کے استعفوں کے بعد فلسطینی سیاسی قوتیں مزید پھوٹ اور انتشار کا شکار نظرآتی ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کے پاس یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ تمام سیاسی قوتوں کو ایک فورم پر جمع کرتے ہوئے سب کو ساتھ لے کرچلے اور تنظیم آزادی فلسطین کی تشکیل نومیں پوری فلسطینی قیادت کو ان کی حیثیت کے مطابق حصہ فراہم کرے۔
فلسطینی سیاسی اور سماجی شخصیات نے اپنے بیان میں غرب اردن میں عباس ملیشیا کے ہاتھوں سیاسی کارکنوں کی بلا جواز گرفتاریوں کی بھی شدید مذمت کی اور صدر عباس اور تحریک فتح پر زور دیا کہ وہ غرب اردن میں سیاسی گرفتاریوں کا باب بند کرانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں۔
مشترکہ بیان پر درج ذہل اہم فلسطینی شخصیات کے دستخط ثبت تھے۔ جابر سليمان، خليل شاهين، إبراهيم أبراش، كايد الغول، هدى نعيم، زياد العالول، خالدات حسين، سعد عبد الهادي، سهيل الناطور، محمود خلف، يسري درويش، هيثم عبده، صلاح الخواجا، سمر هواش، ريما كتانة نزال، خالد منصور، وفاء عبد الرحمن، أنطوان شلحت، عمر عساف، سلطان ياسين، صلاح عبد العاطي، فادي قرعان، داليا مالكي، جهاد محمد كوسى، ريما الوحيدي اور إبراهيم الشطلي۔
