دس سال سے اسرائیلی زیر حراست معروف فلسطینی رہنما جہاد عبد الرحمان، جنہیں مغربی کنارے کے شہر جنین کے جنوبی ٹاؤن قباطیہ سے گرفتار کیا گیا تھا، اپنی اسیری کے گیارہویں سال میں داخل ہوگئے ہیں۔ مرکز برائے دفاع اسیران فلسطین نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا کہ جہاد پر دوران حراست بہیمانہ تشدد کیا جا رہا ہے۔
امور اسیران کے ماہر تجزیہ کار ثامر سباعنہ کا کہنا ہے کہ جہاد نزال، 32 سالہ، کو 08 اگست 2002ء کو قباطیہ ٹاؤن میں انکے گھر سے حراست میں لیا گیا تھا، اسرائیلی اہلکاروں نے ان کو میدان میں لاکر تشدد کا نشانہ بنایا اور ان سے گھنٹوں شہید نصر جرار کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
گرفتاری کے بعد اسرائیلی عدالت نے جہاد نزال کو اسرائیل کے خلاف مزاحمت کرنے اور مفرور افراد کی مدد کرنے کے الزام میں چودہ سال قید سنائی تھی۔ ثامر سباعنہ نے بتایا کہ اسیر جہاد نزال کے والد اور والدہ اپنے پیارے کی راہ تکتے انتہائی ضعیف اور متعدد خطرناک امراض کا شکار ہوچکے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
