فلسطین میں انسانی حقوق بالخصوص اسیران کی بہبود کےلیے کام کرنے والی تنظیم‘‘مرکزاحرار’’ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میںاطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے ممتاز فلسطینی سیاسی
رہ نما اور رکن پارلیمنٹ الشیخ محمد ابو اطیر کو جیل سے رہا کرنے کا فیصلہ ہے۔ امکان ہے کہ انہیں کل بدھ کو رہا کیا جائے گا۔ ابو طیر کا تعلق اسلامی تحریک مزاحمت کے پارلیمانی بلاک اصلاح وتبدیلی سےہے اور انہوں نے بیت المقدس سے سنہ 2006ء کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ گذشتہ ایک سال سے اسرائیل کی رام اللہ کے مغرب میں عوفر فوجی جیل میں انتظامی قید میں ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے انسانی حقوق کی تنظیم‘‘مرکزاحرار’’ کے ڈائریکٹر فواد الخفش نے بتایا کہ اسرائیلی جیل عوفرسے ذرائع سے انہیں یہ اطلاع ملی ہے کہ شیخ ابو طیر کل پانچ ستمبربروز بدھ رہا کیا جائے گا۔ انہیں چھ ستمبر2009ء کو حراست میں لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد صہیونی عدالت نے انہیں چھ ماہ کی انتظامی حراست میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔ اس دوران ان کی انتظامی حراست میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی گئی تھی۔
بزرگ فلسطینی رہ نما شیخ محمد ابو طیر سنہ 1974ء کے بعد سے مسلسل صہیونی جیلوں میں قید کا طویل سفر کاٹ رہے ہیں۔ سنہ انیس سو چوہتر کو صہیونی فوجیوں نے انہیں حراست میں لیا اور تیرہ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اب تک وہ کم وبیش تیس سال صہیونی جیل میں قید رہ چکے ہیں۔ سنہ 2006ء کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد بھی صہیونی فوجیوں نے انہیں کم سے کم 30 تک حراست میں رکھا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
