(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکام نے ڈیڑھ سال سے زیرحراست فلسطینی دانشور اور ممتاز ماہرتعلیم غسان نایف طلب ذوقان کو ڈیڑھ سال کی مسلسل انتظامی حراست میں رکھنے کے بعد جیل سے رہا کردیا ہے۔
پروفیسر غسان ذوقان کے اہل خانہ نے بتایا کہ ذوقان کو جزیرہ نما النقب کی جیل سے رہا کیا گیا ہے۔ رہائی کے بعد وہ مغربی کنارے کےشمالی شہر نابلس میں اپنے گھر پرپہنچ گئے ہیں۔خیال رہے کہ پروفیسز غسان ذوقان کو 9 جولائی 2014 ء کو حراست میں لیا تھا جہاں انہیں بار بار چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست میں ڈالا جاتا رہا۔ پروفیسر غسان ماضی میں بھی سات سال اسرائیلی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل رہ چکے ہیں۔ اسرائیلی جیلوں میں ان کی قید کا زیادہ تر عرصہ انتظامی حراست پر مشتمل ہے۔ ڈیڑھ سال پیشتر انہیں حراست میں لیے جانے کے بعد بھی انتظامی قید میں ڈال دیا گیا تھا۔
دوران حراست وہ دانوں سمیت کئی خطرناک امراض کا بھی شکار ہوئے، حتیٰ کہ ان کا پاؤں پر چلنا بھی مشکل ہوگیا تھا۔ ان کے وکیل کی جانب سے رہائی کی درخواست بھی مسترد کردی گئی تھی۔
پروفیسرغسان ذوقان نابلس کی جامعہ النجاح کے ایک کالج میں لیکچرار ہیں۔ وہ ماضی میں سات سال تک اسرائیل کی جیلوں میں قید رہ چکے ہیں۔
