بیت المقدس سے تعلق رکھنے والی فلسطینی خواتین اور طالبات نے اسرائیلی پولیس کی جانب سے مسجد اقصٰی میں داخلے پر پابندی عائد کئے جانے کے خلاف احتجاج کے طور پر باب السلسلہ پر دھرنا دے دیا۔
موقع پر موجود عینی شاہدین نے بتایا کہ قابض اسرائیلی پولیس نے اس دھرنے کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی۔
یہ دھرنا اسرائیلی پولیس کی جانب سے مسجد اقصٰی کے گیٹ کو خالی کروانے اور مسلمان خواتین کو مسجد میں فجر کی نماز کی ادائیگی سے روکنے کے نتیجے میں دیا گیا تھا۔
اسرائیلی پولیس آفیسرز نے 30 سال سے کم عمر فلسطینی شہریوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا اور مسجد میں داخل ہونے والے معمر افراد پر سخت پابندیاں لگا کر ان کے شناختی کارڈ چھین لئے۔
قابض اسرائیلی پولیس نے دھرنے میں شامل فلسطینی خواتین پر حملہ کردیا اور انہیں مسجد اقصٰی کے دروازوں سے دور کردیا۔ اس کے بعد اس پرامن احتجاج کے شرکاء کو قدیم بیت المقدس کی گلیوں میں یہودی آبادکاروں کے گروہوں اور اسرائیلی فوجیوں نے حملوں کا نشانہ بنایا۔
فلسطینی دکانداروں نے اس موقع پر مظاہرین کو پانی کی بوتلیں فراہم کی تاکہ خواتین مسجد اقصٰی میں داخلے کے لئے منعقد کئے جانے والے احتجاج میں پوری طاقت و توانائی سے بیٹھی رہیں۔
اسی تناظر میں اسرائیلی پولیس نے دو فلسطینی شہریوں کو مسجد اقصٰی سے 15 دن بے دخل کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صلاح محمد اور عبداللہ شامی پر مسجد کے اندر حالات کو خراب کرنے کے الزامات کے تحت پابندی لگائی گئی ہے۔
اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصٰی میں سے تین مزید فلسطینیوں بیان ابلاسی، محمود ابو باسل اور خالد تلوزہ کو گرفتار کر لیا۔
الاقصٰی فائونڈیشن برائے تعمیر و مرمت نے پر امن احتجاج کرنے والے مسلمانوں خاص طور پر خواتین اور طلباء کے خلاف اسرائیلی انتظامیہ کے اقدامات کی شدید مذمت کی۔
فائونڈیشن نے بیت المقدس میں مسجد اقصٰی کے باہر دھرنے میں بیٹھے مظاہرین کی ہمت کی تعریف کی اور کہا کہ ایسی رکاوٹوں کے خاتمے کا واحد طریقہ ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
