مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق انسانی ہیومن رائٹس واچ کی ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقا سارہ لیا ویٹسنن نے رام اللہ میں ایک نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عباس ملیشیا سیاسی بنیادوں پر طلباء کوبھی جیلوں میں ڈال رہی ہے جس کا کوئی آئینی، قانونی اور اخلاقی جواز نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوران حراست سیاسی کارکنوں اور طلباء کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کے ساتھ بدسلوکی کا مظاہرہ کیا جاتاہے جو کہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انسانی حقوق کی خاتون عہدیدار نے کہا کہ شہریوں کو اپنی مرضی کے مطابق اظہار رائے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے لیکن مغربی کنارے میں ایک جماعت کے سوا باقی تمام سیاسی جماعتوں کے لیے بات کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ اور کئی دوسری سیاسی جماعتوں کےکارکنوں کو دوران حراست ظالمانہ سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے بتایا کہ پچیس اپریل کو مغربی کنارے کی جامعہ بیرزیت کے طلباء یونین کے انتخابات کے بعد عباس ملیشیا نے درجنوں طلباء کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کرکے تفتیشی مراکزمنتقل کیا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں حماس کے طلباء ونگ اسلامک بلاک کے سربراہ جہاد سلیم بھی شامل تھے جنہیں چوبیس گھنٹے تک حبس بے جا میں رکھا گیا اور بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔
جہاد سلیم نے انسانی حقوق کی تنظیم کو بتایا کہ دوران حراست مجھے عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے گالیاں دیں، مجھے بری طرح مارا پیٹا گیا اور پوچھا گیا کہ جامعہ بیرزیت میں حماس کیسے کامیاب ہوئی ہے۔
طلباء بلاک کے ایک دوسرے کارکن ایمن ابو عرام کو بھی چوبیس گھنٹے تک حبس بے جا میں رکھا گیا جہاں اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی پوچھا گیا کہ آیا مغربی کنارے میں طلباء یونین کے انتخابات میں حماس کیسے کامیاب ہوتی جا رہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
