بچوں کی عالمی تنظیم،” دفاع برائے بچگان” نے کہا ہے کہ پچھلے دو سال کے دوران اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی بچوں کو قید تنہائی میں رکھے جانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بچوں کو قید تنہائی میں رکھنے کا مقصد ان سے تفتیش کرنا اور ان سے جعلی بیان لینا یا دوسروں سے متعلق معلومات نکلوانا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بین الاقوامی طور پر یہ امر ثابت ہے کہ جن بچوں کو جرائم کی سزا کے طور پر قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے تو اس کا مقصد انہیں بالغ قیدیوں سے الگ رکھنا یا انضباطی کارروائی کے لئے رکھنا ہوتا ہے، جبکہ اسرائیل اس قید کو ان مقاصد کے لئے قطعاً استعمال نہیں کرتا ہے۔
دفاع برائے بچگان کا کہنا تھا کہ سال 2013ء میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی بچوں میں سے 21٫4 فیصد بچوں کو اسرائیلی فوج نے تفتیشی مقاصد کے لئے قید تنہائی میں قید رکھا تھا۔ تنظیم کے مطابق یہ شرح سال 2012ء سے دو فیصد زیادہ ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
