فلسطین کے مقبوضہ شہر الخلیل کی سب سے بڑی علمی درسگاہ کے درجنوں بھوک ہڑتالی طلباء کی خالی پیٹ ہڑتال اور احتجاج کو آج ستائیس دن ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث کئی طلباء کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوچکی ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیے گئے کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ان کی رہائی کے لیے جامعہ الخلیل کے درجنوں طلباءنے ستائیس روز قبل بھوک ہڑتال شروع کی تھی، جو آج بھی جاری ہے۔ ادھر یونیورسٹی کے طلباء نے رام اللہ انتظامیہ اورسیکیورٹی فورسز کو اپنے مطالبات پورے کرنے کے لیے آج شام تک کی مہلت دی اور ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی دی گئی ڈیڈ لائن کے اندر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ سخت جوابی اقدام اٹھائیں گے، تاہم جوابی اقدام کی تفصیل کےبارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
جامعہ الخلیل کے احاطےمیں بھوک ہڑتالی کیمپ کے ایک ترجمان رامی الرجوب نے میڈیا کو بتایا کہ بھوک ہڑتال کے باعث کئی طلباء کی حالت نازک ہوچکی ہے اور وہ مسلسل بے ہوش ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ بھوک ہڑتال کرنے والے تین طلبا محمد صبارنہ،علاء زعازیق اور محمد ابو حدید کی حالت خطرے میں پڑ چکی ہے۔ اگران کی بھوک ہڑتال فوری طور پر ختم نہ کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے جن کی تمام تر ذمہ داری رام اللہ اتھارٹی پر عائد ہو گی۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں حماس اور اسلامی جہاد کے کارکنوں کی بڑی تعداد سیاسی بنیادوں پر زیرحراست ہےجن سے ساتھ جنگی مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ فلسطینی شہری جن میں طلباء بھی شامل ہیں رام اللہ اتھارٹی کے اس اسرائیل نواز رویے پر احتجاج کررہے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
