
اسرائیلی فوج نے ایک کم سن بچے کو گرفتار کرنے کے لیے مقبوضہ بیت المقدس کے ایک پرائمری اسکول پر چھاپہ مار کر اسکول کی تلاشی لی اور بچوں کو زدو کوب کیا۔ گیارہ سالہ لڑکے پر یہودی آباد کاروں کی گاڑیوں پر پتھر پھینکنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اسرائیلی اخبار”ہارٹز” نے اپنی رپورٹ میں اطلاع دی ہے کہ صہیونی فوجی اسکول اور تدریس کے تمام ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے راس العمود میں قائم پرائمری سکول کی کلاسوں میں جا گھسے۔ ایک کلاس سے دوران تعلیم ایک بچے اور اسکول کے سیکرٹری کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
اخبار نے اسکول کے پرنسپل کا ایک بیان بھی نقل کیا ہے جو انہوں نے صہیونی فوج کے چھاپے کے بعد جاری کیا۔ان کا کہنا ہے کہ "مجھے یہ معلوم نہیں کہ فوجی ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ ہمارے پاس ننھے منھے بچے ہیں، جو کسی کا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ فوجیوں کا مسلح ہو کر اسکولوں میں ایسے گھس آنا جیسے یہاں دہشت گرد چھپے ہوں ناقابل فہم ہی نہیں بلکہ نظام تعلیم کے دستور پر حملہ ہے۔ اسرائیلی فوجیوں نے جس بے دردی سے ننھے فلسطینی لڑکے کو حراست میں لیا ہے۔ اس سےفوج کی فلسطینی بچوں کےخلاف نفرت کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔
خیال رہے کہ راس العمود سے کسی فلسطینی لڑکے کی گرفتاری پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ گذشتہ ایک برس کے دوران صہیونی فوجیوں نے مقبوضہ بیت المقدس کے مختلف پرائمری اسکولوں پر بچوں کو گرفتار کرنے کے لیے پانچ مرتبہ چھاپے مارے۔ اساتذہ اور طلباء کو زد و کوب اور بچوں کو حراست میں لینے کے بعد ان پر وحشیانہ تشدد کیا گیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
