(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے ملٹری پراسیکیوٹر نے مقبوضہ بیت المقدس کے بیت صفافا قصبے سے تعلق رکھنے والی ایک سولہ سالہ فلسطینی لڑکی پر یہودی آباد کاروں پرقاتلانہ حملوں اور اقدام قتل کے الزام میں فرد جرم عائد کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اقدام قتل کی فرد جرم کے تفصیلی فیصلے میں بتایا ہے نو فروری کو ملزمہ بیت المقدس بیت صفافامیں اپنے گھر سے نکل کر بس میں سوار ہوئی اور باب العامود کے مقام پر پہنچ کر اس نے ایک یہودی فوجی پر چاقو سے حملے کی کوشش کی۔ اس نے وہ چاقو گھر سے اٹھایا اوریہودی فوجیوں پرحملے کی نیت سےگھر سے نکلی تھی۔دوران تفتیش اس نے اعتراف کیا کہ اس نے گھرمیں استعمال ہونے والی ایک چھری اٹھائی اور باب العامود کے مقام پر اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے چل پڑی تھی۔ اسرائیلی بارڈر فورسز نے اسے باب العامود کے مقام پر روک کر تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران اس نے چھری سے ایک فوجی پرحملے کی کوشش کی تھی تاہم اس کی کارروائی ناکام رہی اسےحراست میں لے لیا گیا تھا۔
