اسرائیلی حکومت کی جانب سے گذشتہ ماہ فلسطینی اسیران کی بھوک ہڑتال کو ختم کرتے ہوئے مصر کی ثالثی کے تحت جو معاہدہ کیا گیا تھا
اسرائیل اس کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے۔ معاہدے کے تحت اسرائیل نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ انتظامی حراست میں رکھے گئے تمام اسیران کو یا تو عدالتوں میں پیش کرے گا یا انہیں رہا کیا جائے گا لیکن اس معاہدے اور یقین دہانے کے برعکس کئی اسیران کی مدت حراست میں تجدید کی گئی ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انتظامی حراست کے سزا یافتگان کی اسیری میں تجدید پرفلسطینی حکومت کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ فلسطینی وزیر برائے امور اسیران ڈاکٹر عطاء اللہ ابو السبح نے اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی پر کڑی تنقید کی ہے۔ غزہ کی پٹی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں ڈاکٹر ابو السبح نے کہا کہ اسرائیل نے مصرکے ساتھ فلسطینی بھوک ہڑتالی اسیران کے سلسلے میں جو معاہدہ طے کیا تھا اب اس کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ صہیونی جیل انتظامیہ اور سیکیورٹی حکام نے انتظامی حراست میں رکھے گئے اراکین مجلس قانون ساز اور دیگر اسیران کی مدت اسیری میں دوبارہ توسیع اور تجدید شروع کردی ہے جو اس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں بغیر کسی مقدمہ کے حراست میں رکھے گئے فلسطینیوں کی قید میں کئی بار توسیع کی جا چکی ہے۔ جو کہ عالمی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ عالمی قانون کے تحت کسی بھی اسیرکو بغیر کسی الزام کے حراست میں نہیں رکھا جاسکتا لیکن اسرائیل ان تمام عالمی ضابطوں کے برعکس سال ہا سال سے سینکڑوں فلسطینیوں کو مقدمہ چلائے بغیر حراست میں رکھے ہوئے ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

