اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی اسیر سمیر ابو فائد کے اسمگل شدہ جرثومے کے ذریعے ان کے ہاں ایک بچی نے جنم لیا ہے۔ سمیر ابو فائد کو 18 سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق بچی کی پیدائش مغربی کنارے کے وسط میں العربی اسپتال میں ہوئی۔ ماں اور بیٹی دونوں بہ خیریت ہیں۔ والدہ نے اپنی ننھی بیٹی کا نام "حریت” یعنی آزادی رکھا ہے۔خیال رہے کہ فلسطینی اسیران پچھلے کچھ عرصے سے اپنی مادہ منویہ کی جیلوں سے پراسرار طریقے سے منتقلی کے ذریعے بچے پیدا کررہے ہیں۔ گذشتہ اڑھائی سال کے دوران اس طریقے سے پندرہ بچے پیدا ہوچکے ہیں۔
اسمگل شدہ نطفے کو آئی وی ایف نامی ایک طریقہ علاج کے ذریعے ماں کے بطن میں منتقل کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ اسیر ابو فائد سنہ 2002 ء سے صہیونی جیل میں قید ہے۔ اس کی 18 سال قید میں سے 12 سال مکمل ہوچکے ہیں۔ ابو فائد کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔
