جہاد التاویل کے بھائی شریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جہاد بئیر شیبا کے سوروک ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔ جہاد کو اسرائیلی جیل کے محافظوں نے دو ہفتے قبل تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
شریف کے مطابق جہاد اس حملے کے دوران بیہوش ہوگئے تھے اور انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا تھا۔ انہیں جب ہسپتال منتقل کیا گیا تو ان کی حالت انتہائی نازک تھی اور وہ کوما کی حالت میں چلے گئے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جہاد کو پچھلے سال گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے زخمی ہونے کے ایک سال بعد ان کے خاندان کو بتایا گیا کہ ان کی مدت حراست ختم کردی گئی ہے اس لئے ان کی رہائی کے کاغذوں پر دستخط کرکے ان کا ذاتی سامان لے جایا جائے مگر ان کے خاندان نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔
شریف کا کہنا تھا کہ ان کا خاندان جیل سے جہاد کا شناختی کارڈ لینے کے بعد ان کو باب الاثبات قبرستان میں دفنائے گا۔ جہاد مسجد اقصٰی کے جنوبی علاقے سلوان کے رہائشی تھے اور پانچ بچوں کے والد تھے۔
