مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسیرہ قعدان مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین کے جنوب میں عرابہ قصبے سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ گذشتہ دوس سال سے اپنے عزیزو اقارب اور اہل خانہ سے ملاقات سے مسلسل محروم ہے۔
دوسری جانب فلسطین میں قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم "کلب برائے اسیران” کی جانب سے اسیرہ منا قعدان کے ساتھ اسرائیلی جیلروں کے ناروا رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے اپنے عزیزوں سے ملاقات پر پابندی کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست نام نہاد سیکیورٹی وجوہات کی آڑ میں منا قعدان کو اس کے اہل خانہ سے ملاقات سے روک رہے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قابض صہیونی فوج نے نہ صرف اسیرہ کے اہل خانہ سے ملاقات پر پابندی عائد ہے بلکہ اسے متعدد مرتبہ اسرائیلی عدالتوں میں پیش بھی کیا گیا لیکن عدالتوں میں پیشی کے باوجود اسے اپنے دفاع میں ایک لفظ تک بولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
کلب برائے اسیران کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد سے اسیرہ منا قعدان، معدے اور ہائی بلڈ پریشر سمیت کئی دوسری بیماریوں میں مبتلا ہے لیکن صہیونی جیلروں کی جانب سے اسے کسی قسم کی طبی سہولت مہیا نہیں کی جارہی ہے۔
خیال رہے کہ منا قعدان اپنی زندگی میں اب تک 16 بار اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوچکی ہے۔ اس سے قبل اسے سنہ 2004 اور سنہ 2007ء میں حراست میں لینے کے بعد طویل عرصے تک قید میں رکھا تھا۔ اسیرہ کے والدین اس کی اسیری کے دوران انتقال کرگئے تھے۔
