فلسطین کے سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی فلسطینی اسیرہ لینا الجربونی اور اس کے خاندان کے صبرو استقامت پر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ
اسرائیل کی جانب اسیرہ لینا اور دیگر اسیران کی رہائی سے انکار کر کے فلسطینی اتھارٹی پر بنیادی مطالبات سے دستبرداری کے لیے دباؤ ڈالنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔
وہ لینا اور اس کے اہل خانہ کے صبر واستقامت کو سلام پیش کرتے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق الشیخ رائد صلاح نے عکا شہر میں لینا جربونی کے گھر کے باہر اس کی رہائی کے حوالے سے لگائے گئے یکجہتی کیمپ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے شہریوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی امریکی سازش کے تحت فلسطینی اسیران کے معاملے کو مذاکرات میں بنیادی قومی مطالبات سے دستبرداری کے لیے دباؤ کے ایک حربے کے طورپر استعمال کیا جا رہا ہے تاہم صہیونی ریاست اور امریکیوں کی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
اس موقع پر انہوں نے لینا جربونی کی دیگر ہمیشراؤں اور اہل خانہ سےبھی ملاقات کی۔ انہوں نے لینا کی بہنوں ، والدین، بھائیوں کی جانب سے پیاری لینا کی رہائی کے لیے صبر سے کوششیں کرنے پر ان کی تعریف کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی لینا جلد صہیون استبدادی پنجے سے آزاد ہو کر اپنے خاندان میں شامل ہوجائے گی۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان جاری امن مذاکرات کے نتیجے میں اسرائیل نے جن 104 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا وعدہ کیا تھا ان میں لینا کا نام شام کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں، امکان تھا کہ رہائی پانے والوں کی چوتھی کھیپ میں لینا بھی رہا ہو جائے گی لیکن صہیونی ریاست نے تین مراحل میں78 فلسطینی رہا کیے اور باقی کو رہا کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد لینا کے خاندان کو بھی سخت مایوسی ہوئی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
لینا کا تعلق شمالی فلسطین کے شہر عکا سے ہے اسے 10 سال قبل آبائی شہر ہی سے اس کے گھرسے اغواء کیا گیا۔ صہیونی عدالت میں اس پر فلسطینی مزاحمت کاروں کو پناہ دینے اور ان کی مدد کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت نے اس جعلی مقدمے میں لینا کو سترہ سال قید کی سزا سنائی۔ لینا سترہ میں سے دس سال قید کاٹ چکی ہے۔
