فلسطینی اسیرہ لینا جربونی نے اہسپتال میں ہتھکڑیاں لگوا کر علاج کرانے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد 37 سالہ لینا کو مائر ہسپتال سے دوبارہ ہشارون جیل بھجوا دیا گیا ہے۔
اپنی بپتا سناتے ہوئے لینا نے بتایا کہ انہیں مینڈیلا فاؤنڈیشن کے وکیل بوتھینا ڈکمک کے دورہ جیل کے موقع پر پیٹ درد کے علاج کی خاطر ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ مسلسل ہتھکڑیوں اور شدید درد کے باعث رات بھر سو نہیں پاتی تھیں۔
"میرے ہسپتال میں قیام کے دوران انتظامیہ اشتعال دلانے کے لئے مجھے جان بوجھ کر مغلظات سے نوازتی رہی۔ میری جیل دوبارہ منتقلی کے بعد ڈاکٹروں کی اس ہدایت پر بھی عمل نہیں کرایا گیا جس میں جیلروں کو میرے باقاعدہ طبی معانئہ کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ لینا جربونی تیرہ روز مسلسل بھوک ہڑتال کی وجہ سے پیٹ درد کی شکایت پر مائر ہسپتال علاج کے لئے منتقل کی گئیں لیکن وہاں علاج کے دوران بھی ان کی ہتھکڑی نہیں کھولی گئی، جس کے بعد اسیرہ نے ڈاکٹروں سے درخواست کی وہ یہاں انسانیت سوز حالات میں مزید علاج نہیں کرا سکتی، اسے دوبارہ جیل بھجوا دیا جائے۔
نے بتایا کہ میری اس درخواست کو ڈاکٹروں نے سنی ان سنی کر دیا جس پر وہاں زیر علاج دوسرے قیدیوں نے ہسپتال انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اگر مجھے جیل واپس نہ کیا گیا تو وہ سب کے سب بھوک ہڑتال کر دیں گے۔ اس کے بعد لینا کو ہسپتال سے دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ مقبوضہ فلسطین کے عربہ باتوف گاؤں سے تعلق رکھنے والی لینا ان دنوں سترہ سال کی قید کاٹ رہی ہیں۔
