یوفری نے اپنے بیان میں بتایا کہ،” اس وقت اسرائیلی جیلوں میں 5000 اسیران قید ہیں جن میں 22 خواتین، 230 نابالغ اور 11 ممبران پارلیمان شامل ہیں جبکہ 200 فلسطینیوں کو انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے۔”
بیان میں بتایا گیا کہ،” ان تمام اسیران کو ذہنی و جسمانی تشدد، قید تنہائی، میڈیکل تجربوں اور بہت سنجیدہ جرائم کا شکار بنایا جاتا ہے۔ انہیں جان بوجھ کر علاج معالجہ فراہم نہیں کیا جاتا ہے۔
یوفری کے مطابق،” اسرائیلی حکام نے اب تک ہزاروں فلسطینی سیاسی اسیران کو انتظامی حراست کی پالیسی کا نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی حکام فلسطینی اسیران کے خلاف اس حراست کو بطور سزا استعمال کررہے ہیں باوجود اس کے کہ بین الاقوامی قانون اس سزا کی اجازت نہیں دیتا ہے۔”
پیٹیشن میں مزید کہا گیا کہ،” ہم زیر دستخط افراد اسرائیلی جیلوں میں قید اسیران کے ساتھ تلخ اور غیر انسانی رویہ رکھنے کی مذمت کرتے ہیں اور اس کو بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔”
یوفری کی پٹیشن اس ویب لنک پر دیکھی جاسکتی ہے:
http://ymlp.com/xgmmbeyhgmguu
