فلسطینی اسیران کے امور میں سرگرم سابق فلسطینی اسیر عبدالناصر فروانہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حکام قید تنہائی میں ڈالے گئے فلسطینی قیدیوں پر طاقت کے بے دریغ استعمال کے لیے قانون سازی کا سہارا لینے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیلر پہلے ہی فلسطینی قیدیوں کے خلاف غیرانسانی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں اور اسیران کے حوالے سے بین الاقوامی اصولوں اور معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ فلسطینی قیدیوں کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال کانیا ہتھکنڈہ نہایت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
عبدالناصر فروانہ نے یہ بیان اس وقت جاری کیا جب اسرائیل کی صحرائی جیل نفحہ کی انتظامیہ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ایک نیا فرمان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ کمانڈو یونٹوں بالخصوص نخشون اور میستادا کے اہلکار جب جیلوں پر چھاپہ ماریں تو اس دوران قیدیوں کے خلاف آتشیں اسلحہ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
فروانہ نے فلسطینی قیدیوں کے خلاف بے دریغ طاقت کے استعمال اور پرتشدد ہتھکنڈے اپنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ اسرائیلی جیل انتظامیہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فلسطینی قیدیوں کو تنہائی کی سزا دینے سمیت دیگر ممنوعہ طریقے اختیار کررہی ہے جسکے نتیجے میں قیدیوں میں اسرائیل کے خلاف غم وغصہ کی فضاء میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ادھر فلسطینی کلب برائے اسیران نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی جیلوں میں زیرحراست 21 فلسطینی قیدیوں نے اپنے خلاف دائر مقدمات میں عدالتوں میں پیشی کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔ یہ تمام قیدی انتظامی حراست میں رکھے گئے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
