اسرائیل کے وزیر انصاف تسیپی لیفنی نے کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینی اسیران کے چوتھے گروپ کو صرف اس وقت ہی رہا کرے گا جب صدر محمود عباس فریم ورک معاہدے پر دستخط کریں گے۔
لیفنی کے یہ بیانات ان کے مقبوضہ مغربی نقب کے دورے کے دوران سامنے آئے۔ اسیران کےاس گروپ کو اس ماہ کے آخر تک پہلے سے طے شدہ معاہدے کے تحت رہا کیا جانا تھا اور اس معاہدے کا کیری معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دریں اثناء منگل کی شام کو محمود عباس واشنگٹن سے روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے اپنے تین روزہ دورے کے دوران امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کی تھی۔ محمود عباس نے فلسطینی ریاست کو معاشی اور سیاسی امداد فراہم کرنے اور عرب اسرائیلی تنازعے کو ختم کرنے کے معاملے پر کام کرنے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا۔
اس ملاقات سے قبل محمود عباس نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے امریکا میں مقیم فلسطینیوں سے بھی ملاقات کی اور انہیں خطے میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا اور واشنگٹن میں موجود فلسطینی سفارتی مشن کے دفتر کا دورہ کیا۔
اس دورے کے دوران محمود عباس کے ساتھ پی ایل او کی ایگزیکیٹو کمیٹی کے ممبر صائب عریقات، تحریک فتح کی مرکزی کمیٹی کے رکن محمد ایشطیہ، صدر کے ترجمان نبیل ابو ردینا، صدارتی مشیر برائے سفارتی امور مجدی الخالدی اور واشنگٹن میں فلسطینی اتھارٹی کے سفیر معن عریقات شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
