اسرائیلی اخبارات نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت سنہ 1948 ء کے دوران اسرائیلی قبضے میں چلے گئے علاقوں سے تعلق رکھنے والے فلسطینی اسیران کو رہا کرنے کے بعد ان کی اسرائیلی شہریت ختم کرکے انہیں ملک بدر کرنے پرغور کر رہی ہے۔
اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت سنہ 1948 ء کے عرب شہروں سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کو امن مذاکرات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھ رہی ہے اور انہیں رہا کرکے ملک بدر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے سولہ عالمی اداروں اور معاہدوں میں شمولیت کے اعلان کے بعد اسرائیلی حکومت خود کو مذاکرات کے حوالے سے دباؤ میں محسوس کر رہی ہے۔ اس لیے تل ابیب کی خواہش ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کو عالمی اداروں میں شمولیت سے روکنے کے لیے سنہ 1948 ء کے ان قیدیوں کو رہا کر دے جو سنہ 1994 ء میں طے پائے اوسلو معاہدے سے پہلے حراست میں لیے گئے تھے اور تاحال صہیونی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔
اخبار نے اسرائیلی حکومت کے ایک ذمہ دار ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس امر کا امکان موجود ہے کہ عید الفصح کے بعد اسرائیل کچھ فلسطینیوں کو رہا کر دے جبکہ امن عمل میں امریکا مزید تعاون کرتے ہوئے اسرائٰیلی جاسوس جونتھن بولارڈ کو بھی چھوڑ دے۔
