اسرائیلی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کی آئین ساز کمیٹی میں پیش کیے گئے ایک بل پرآج بحث کے بعد رائے شماری ہورہی ہے جس میں یہودی آباد کاروں کے قتل کے الزام میں گرفتار کیے گئے فلسطینیوں کوسزائے موت دی جاسکے گی۔
اسرائیل کے عبرانی اخبار”یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مابق آج اتوار ہی کو اسرائیلی کابینہ کا اجلاس بھی ہو رہا ہے جس میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے لیے سزائے موت کی تجویز پرغور کیا جائے گا۔
اخباری رپورٹ کے مطابق کنیسٹ کی آئینی کمیٹی اور کابینہ کے اجلاس میں آج مجوزہ بل اسرائیلی پارلیمنٹ میں شامل انتہا پسند سیاسی جماعت "اسرائیل بیتونا” کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔ اس جماعت کی قیادت سابق وزیرخارجہ اور فلسطینیوں کے دشمن آوی گیڈور لائبرمین کے پاس ہے۔ مجوزہ آئینی بل میں سفارش کی گئی ہے کہ یہودی آباد کاروں کےقتل میں ملوث فلسطینی مزاحمت کاروں کو سزائے موت دی جائے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کے موجودہ آئین میں سزائے موت کی گنجائش نہیں بعض ایسے متنازعہ آئین موجود ہیں جن کی رو سےمعمولی نوعیت کے الزام میں پکڑے گئے فلسطینیوں کو کئی کئی بار عمرقید کی سزائیں سنائی جاتی ہیں۔ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کرتے ہوئے کم عمربچوں کو بھی سزائیں دینے اور انہیں دوران حراست اذیتیں دینے کا قانون موجود ہے۔
لائبرمین کی جماعت کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ آئینی بل کی آئینی کمیٹی میں شامل 10 میں سے پانچ ارکان حمایت کرچکے ہیں۔ حمایت کرنے والوں میں شاکید، اوری ارئیل، وائو کینس، میری ریگیو، ڈانی ڈانون شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
