مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق رام اللہ میں فلسطینی یوم اسیران کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتےہوئے صدر عباس نے کہا کہ تمام فلسطینی اسیران کی رہائی اسرائیل کے ساتھ کسی نئے معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ اسرائیل کو بھی امن بات چیت کی بحالی کےلیے خود کو تیار کرنا ہوگا۔
فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے عالمی برادری کے کردار کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سےپرزور مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل فلسطینیوں ی رہائی اور دیگر حقوق کے لیے فلسطینیوں کا ساتھ دے۔
صدر محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی پامالی سے پوری دنیا آگاہ ہے۔ ان میں فلسطینی اسیران کا معاملہ بھی شامل ہے۔ اگر اسرائیل نے فلسطینی رہا نہ کئے تو ہم اسیران کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل جیلیں بند کرتے ہوئے حراست میں لیے گئے تمام فلسطینیوں کو غیر مشروط طور پر رہا کرے۔ فلسطینی عوام کے روکے گیے محصولات ادا کیے جائیں اور فلسطینیوں کے خلاف انتہا پسندانہ سرگرمیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔
صدر ابو مازن کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کی جبری ملک بدری اور ایک سے دوسرے شہروں میں جبری نقل مکانی کے ظالمانہ صہیونی ہتھکنڈے نے امن مساعی کو غیرمعمولی نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل سنہ 1967 ء سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جائے، بیت المقدس اور مغربی کنارے میں یہودی بستیاں ختم کرے تاکہ ان علاقوں پر مشتمل آزاد فلسطینی مملکت کا اعلان کیاجاسکے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
