• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

فلسطینی اسکولوں پر شر پسند یہودیوں کے حملوں میں اضافہ

اتوار 10-02-2013
in فلسطین
0
plf 2killed and 5injured in israeli airstrike
0
SHARES
2
VIEWS
”یہ ایک اسکول ہے، کوئی عسکری تربیتی مرکز نہیں، ادنی سمجھ بوجھ رکھنے والا انسان بھی بخوبی جان سکتا ہے کہ اس اسکول کا مقصد طلبہ کو تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے” ۔ یہ الفاظ مغربی کنارے کے شہر نابلس کے معروف بوائز ہائی اسکول عوریف کے ڈائریکٹر کے تھے۔ یہ وہ فلسطینی اسکول ہے جس پر قریبی یہودی بستی ”یتسھار” کے غاصب آباد کاروں نے روزانہ کی بنیاد حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
 
اسرائیلی حکومت اور فوج آشیر باد سے انتہاء پسند یہودیوں نے اس اسکول میں جاری تعلیمی عمل کو درھم برھم کر کے رکھ دیا ہے۔ اس اسکول کا شمار بھی اسکولوں کی اس فہرست میں ہوتا ہے جہاں پر تعلیم حاصل کرتے فلسطینی بچے یہودیوں کو ایک آنکھ نہیں بہاتے ۔ سن 1948 میں فلسطین کے اٹہتر فیصد حصہ پر قبضہ کر کے صہیونی ریاست قائم کرنے اور سن 1967 میں باقی بچ رہنے والے فلسطینی حصے پر قبضہ کر کے یہاں پر یہودی بستیاں بسانے والے آبادکاروں کو فلسطینیوں کا تعلیم حاصل کرنا کسی صورت برداشت نہیں۔
 
دنیا بھر میں تعلیم کے بل بوتے پر اعلی مناصب تک پہنچنے والے یہودیوں نے مغربی کنارے میں فلسطینی اسکولوں میں جاری تعلیمی عمل کو ناکام بنانے کے لیے دیگر ہتھکنڈوں کے علاوہ براہ راست حملوں کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ نابلس کا عوریف اسکول بھی یہودی آبادکاروں کی چیرہ دستیوں کی زد میں آنے والا ایک اسکول ہے۔ یہودی آباد کار اسکول کے صبح اور شام کے سیشن کے دوران مختلف طریقوں سے تعلیمی عمل کو متاثر کر رہے ہیں۔ صبح کے وقت یہودی شر پسند اسکول پر پتھراؤ کرتے ہیں۔ طلبہ اور اساتذہ کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ اسکولوں میں گھس کر طلبہ کو زدوکوب کرنے سے بھی باز نہیں رہا جاتا۔ 
 
بدبودار اور زہریلی گیس چھوڑ کر اسکول میں موجود افراد کو گھروں پر جانے پر مجبور کرنے کی کوشش بھی جاری ہے۔
اسکول کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ چھوڑی جانیوالی اس گیس کا تجزیہ کرنے کے لیے ہمیں ماہرین کی ضرورت ہے۔ اس گیس نے اسکول میں موجود طلبہ اور اساتذہ کو سخت پریشان کر رکھا ہے۔ ان کی صحت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اور مستقبل میں اسرائیلی اس سے بھی خطرناک زہریلی گیسیں فضا میں چھوڑ سکتا ہے جس کے اثرات انتہائی خطرناک ہونگے۔
 
شرپسند یہودیوں کی روزانہ کی کارروائیوں کی وجہ یہ اسکول ایک سکیورٹی چیک پوائنٹ بن کر رہ گیا ہے۔ صہیونی حکومت اور آباد کاروں نے عوریف گاؤں کا سارا انفراسٹرکچر بھی تباہ کر کے رکھا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئے روز غاصب یہودی اسکول پر دھاوا بول دیتے ہیں جس کی اطلاع ملتے ہیں بچوں کے والدین شدید پریشانی کے عالم میں تمام کام چھوڑ کر اسکول کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ آئے روز کے حملوں کے باوجود اب تک کوئی بھی سرکاری شخصیت یہاں آئی نا ہی کسی معروف سیاسی شخصیت نے فلسطینی نونہالوں کی اشک شوئی کے لیے یہاں کارخ کیا۔
 
اسکول کے خلاف اپنائے جانے والے اوچھے ہتھکنڈوں کی تفصیلا ت بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسکول کی عمارت آئے روز کے یہودی حملوں کی گواہی دے رہی ہیں۔ اسکول کی چھت اور تینوں منزلوں پر جگہ جگہ یہودی آباد کاروں کے پتھراؤ کے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسکول کی جانب آنے والی گلیوں میں کھڑا پانی بھی یہودی کارستانیوں کی داستان سنا رہا ہے۔
 
انہوں نے بتایا کہ عوریف اسکول کے علاوہ اسرائیلی فوج اور یہودی انتہاء پسند جتھوں کے حملوں کی زد میں آنے والے اسکولوں میں یانون، ساویہ، یورین، جالود اور دیگر دیہاتوں کے اسکول بھی شامل ہیں۔ ان سب اسکولوں پر صہیونی حملوں سے پہلے سے وسائل کی کمی کے شکار  ان اسکولوں کی بندش کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ 
 
 
 
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.