مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی حکام نے ڈاکٹر عزیز دویک کو گذشتہ روز رہا کیا جس کے بعد وہ انہیں ایک جلوس کی شکل میں رہائش تک پہنچایا گیا۔
فلسطینی پارلیمنٹ میں حماس کے پارلیمانی بلاک”اصلاح وتبدیلی” کی جانب سے ڈاکٹر عزیز دویک کی رہائی پرانہیں ھدیہ تہنیت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے صبرو استقلا کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔
فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم”مرکزاحرار” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر الدویک کو 12 ماہ قبل حراست میں لیا گیا تھا۔ جنہیں کل منگل کی شام رام اللہ کے قریب”عوفر” جیل سے رہا کیا گیا۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی "عوفر” نامی ایک فوجی عدالت نے حال ہی میں اپنے ایک فیصلے میں ڈاکٹر عزیز دویک کو بارہ ماہ قید اور سات ہزار شیکل جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ وہ اپنی قید کی مدت پہلے ہی پوری کرچکے تھے تاہم اس کے باوجود اسرائیلی حکام ان کی رہائی کے معاملے میں مسلسل ٹال مٹول سے کام لیتے رہے۔
ڈاکٹر عزیز دویک کو وسط جون 2014 ء کو الخلیل شہر سے اس وقت حراست میں لے لیا گیا تھا جب اسی شہرمیں تین یہودی آباد کار لاپتا ہوگئے تھے۔ یہودیوں کی گم شدگی کے واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے حماس سے وابستہ کارکنوں کے خلاف وحشیانہ کریک ڈائون شروع کیا جس میں سیکڑوں فلسطینیوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
