اسرائیلی حکومت نے انتظامی حراست میں رکھے گئے فلسطینی مجلس قانون ساز کے اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک کو جمعرات کے روز رہا کردیا ہے۔
دوسری جانب اسیر رہ نما کی رہائی پر فلسطین بھر میں جشن کا سماں ہے اور اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے بھی ڈاکٹر دویک کو رہائی پر مبارک باد دی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق صہیونی فوج نے حماس کے ایک دوسرے رہ نما شیخ جمال الطویل کو بھی دو ہفتے تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا ہے۔ الخلیل شہر میں شیخ جمال الطویل کی دختر بشریٰ الطویل نے میڈیا کو بتایا کہ جمعرات کی شام ڈاکٹر عزیز دویک اور ان کے والد جمال الطویل صہیونی جیل سے رہائی کے بعداپنے گھروں میں پہنچ گئے ہیں۔
بشریٰ کا کہنا تھا کہ ان کے والد شیخ طویل اور اسپیکر اسمبلی ڈاکٹر عزیز دویک رام اللہ کے مغرب میں اسرائیل کی قائم کردہ "عوفر” جیل میں انتظامی قیدیوں میں شامل تھے۔
ادھر مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگاروں کے مراسلوں کے مطابق جمعرات کے روز عوفر جیل کے باہراپنے اسیر قائدین کا استقبال کرنے کے لیے فلسطینیوں کی بڑی تعداد جمع تھی جہاں صہیونی ملٹری پولیس اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے استقبال کے لیے جمع فلسطینیوں پر لاٹھی چارج کیا اور ان پر آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ بعد ازاں رام اللہ اور الخلیل میں شیخ جمال الطویل اور ڈاکٹر عزیز دویک کا شاندار استقبال کیا گیا۔ دونوں سابق اسیران کے گھروں میں ہزاروں افراد ان کے استقبال کے لیے جمع تھے۔
ادھر اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کی جانب سے ڈاکٹر عزیز الدویک کی رہائی پر انہیں مبارک باد پیش کی ہے۔ حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں ڈاکٹر دویک کی رہائی کو فلسطینی کاز کی فتح قرار دیا گیا اور انہیں بلا جواز جیل میں ڈالے رکھنے کے صہیونی اقدام کی شدید مخالفت کی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
