مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق امام مسجد اقصیٰ نے نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے ساتھ تعاون کے کچھ اصول وضع ہونے چاہئیں۔ایک غاصب ریاست کے ساتھ فوجی تعاون ہمارے دین کی بنیادی اصولوں اور قومی مفادات کےخلاف ہے۔ اس لیے میں فلسطینی اتھارٹی سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ صہیونی ریاست کے ساتھ جاری فوجی تعاون کےتمام راستے بند کردے۔۔
الشیخ عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون ختم کرنے کا قومی مطالبہ ہراعتبار سے درست اور بجا ہے۔ فلسطینی عوام کو بغیر کسی سیاسی وابستگی اور معاشرتی نفاق کے اسرائیل کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کے تعلقات توڑنے کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔
الشیخ صبری کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام ایک دشمن اور غاصب ملک کی ظالم انتظامیہ کے ہاتھوں سنگین اور مشکل ترین حالات سے گذ رہے رہیں۔ ہمارے پورے پورے خاندانوں کو زندہ جلایا جا رہا ہے۔ کھیتوں اور کھلیانوں میں فصلوں اور باغات کو نذرآتش کرکے انتقام کی آگ مزید بھڑکائی جا رہی ہے۔ ارض فلسطین میں پچھلے سات عشروں سے لوٹ مار اور غاصبانہ قبضے کا بازار گرم ہے۔
مسجد اقصیٰ کے خطیب نے اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے محافظوں پر پابندی لگانے کے فیصلے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اسرائیل کی اس سازش کے پیچھے قبلہ اول کو مسلمانوں سے چھین لینے کے مکروہ محرکات کار فرما ہیں۔ انہوں نے فلسطینی عوام پر زور دیا کہ وہ دشمن کی دھمکیوں کی پرواہ کیے بغیر قبلہ اول سے اپنا تعلق مضبوط تر بنائیں اور مسجد میں زیادہ سے زیادہ اپنی حاضری کو یقینی بنانے کی کوشش کریں۔
