مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصیٰ کے امام نے نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "فلسطینی مردو زن کا تمام ترصہیونی رکاوٹیں عبور کرکے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ، فجر، عشاء اور تراویح کے لیے پہنچنا ان کی عظیم قربانی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطینی عوام مسجد اقصیٰ سے حد درجہ محبت رکھتے ہیں اور یہ محبت ہی انہیں کھنچ کریہاں لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی فلسطینی شہری اسرائیلی رکاوٹوں کو خاطرمیں نہ لائیں بلکہ پوری جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قبلہ اول سے اپنا تعلق مضبوط بنانے کے لیے اسرائیلی رکاوٹوں کو توڑ ڈالیں۔
الشیخ عکرمہ صبری نے مسجد اقصیٰ میں نماز کے لیے آنے والوں کو روکنے اور جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرنے کی اسرائیلی پالیسی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اسرائیلی پابندیاں فلسطینیوں کے مذہبی امور میں مداخلت کے مترادف ہیں۔ مگر میں فلسطینی عوام سے پرزور اپیل کرتاہوں کہ وہ صہیونی فوجیوں کی کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے قبلہ اول سے اپنا تعلق مضبوط بنائیں۔
خیال رہے کہ فلسطین میں تیسرے جمعہ کے روز عوام الناس کا ایک جم غیر قبلہ اول میں نماز جمعہ کی ادائی کے لیے بیت المقدس پہنچا۔ دوسری جانب صہیونی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کے بیت المقدس میں داخلے کے لیے طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔ فلسطینیوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے منظم ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک فلسطینی نوجوان کو شہید کردیا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
