
تاہم قومی امنگوں کے خلاف اسرائیل کے ساتھ ذلت آمیز تعلقات بحالی کے نتیجے میں بھی اسے صرف رسوائی ہی ملی اور اسرائیلی حکام نے امن مذاکرات میں شریک فلسطینی اتھارٹی کے ذمہ داروں اور اہم رہنماؤں کو صرف دو ماہ کا ویزہ جاری کیا۔
اسرائیلی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی کے لیڈر ان کو وی آئی پی کارڈز جاری کرنے کے بجائے صدر محمود عباس سمیت اتھارٹی کے تمام عہدیداران کو صرف خصوصی اجازت نامے جاری کیے ہیں۔ اسرائیلی ریڈیو پر جمعہ کی شام نشر ہونے والی خبر کے مطابق ان خصوصی اجازت ناموں پر صرف دو ماہ کے لیے اسرائیل کے سفر کی اجازت دی گئی ہے جبکہ وی آئی پی کارڈز میں یہ مدت چھ ماہ ہوتی تھی۔
اجازت ناموں پر اس بات کی تصریح بھی کی گئی ہے کہ سکیورٹی انتظامات کی بنا پر اتھارٹی کے رہنماؤں کو محدود وقت کے ویزے جاری کیے جا رہے ہیں۔ تحریک فتح کے ایڈوائزری بورڈ ایک بند کمرہ اجلاس سے بات کرتے ہوئے صدر محمود عباس نے بتایا کہ مذاکرات کو جاری رکھنے پر ان کے زور کے باوجود فلسطینی اتھارٹی کے رہنماؤں کو صرف دو ماہ تک اسرائیل آنے جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
