رام اللہ میں موجود فلسطینی اتھارٹی کے مرکزی دفاتر کے باہر درجنوں فلسطینی صحافیوں نے فلسطینی اتھارٹی کی فورسز کی جانب سے صحافیوں کے خلاف کارروائیوں پر دھرنے کا اہتمام کیا۔
مظاہرے میں شرکت کرنے والے صحافیوں نے فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے حراستی مہمات چلانے اور انہیں تفتیش کے لئے طلب کرنے کے خلاف نعرے لگائے اور فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے ان کے صحافتی کام پر پابندیوں کی مذمت کی۔
دھرنے کے منتظمین میں سے ایک صحافی سامی سعدی بھی ہیں جو کہ گزشتہ روز 13 گھنٹوں کے لئے طولکرم میں قید رکھے گئے تھے۔ سعدی کا کہنا تھا کہ انہیں فیس بک پر فلسطینی اتھارٹی کی حراستی مہم پر تنقید کرنے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔
ان پر فلسطینی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ صائب اریقات کے خلاف بولنے کا الزام لگایا گیا ہے اور ان پر دبائو ڈالا ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی اور اس کی قیادت کے خلاف نہ بولنے کا عہد کریں۔ انہیں آدھی رات کو رہا کیا گیا تھا۔
دریں اثناء ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا ہے کہ فلسطینی جرنلسٹ یونین نے اس دھرنے میں شرکت نہیں کی ہے جس سے صحافیوں کی بڑی تعداد اور یونین کے درمیان آہنگی کی کمی ظاہر ہوتی ہے۔
مظاہرے کے شرکاء صحافیوں نے کہا ہے کہ یونین فلسطینی اتھارٹی کی خلاف ورزیوں کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
