اس حقیقت کو سب کو معلوم ہے کہ امریکی صدر براک اوباما کے حالیہ دورہ فلسطین کے وقت فنڈز کا رخ فلسطینی اتھارٹی کے تجوریوں کی جانب ہونے کا کیا مطلب ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ امریکا کسی کو صدقہ اور خیرات میں رقوم نہیں دیتا، فلسطینی اتھارٹی کو بھی اچھی طرح معلوم ہو گا کہ اسے آنے والے ڈالرز کے مقابلے میں کیا خدمت سر انجام دینا ہے۔
تجزیہ کاروں اور فلسطینی امور پر نظر رکھنے والے افراد اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے فلسطینی اتھارٹی کی قیادت فلسطینی مفاہمت اور اختلافات کے خاتمے کے بیانات دینا ختم کر دیے تھے۔ امریکی صدر کے دورے سے قبل ہی حماس کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا، اس طرح امریکی ڈالرز سے میں اپنا حصہ وصول کر لینے کے بعد تحریک فتح کے رہنماؤں کی مفاہمت کے بارے میں عزائم کمزور پڑ گئے ہیں۔
رام اللہ میں فلسطینی مصنف ابراھیم حمامی نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ’’فیس بک‘‘ کے اپنے پیج پر کہا کہ ’’کیا گزشتہ کئی ہفتوں سے آپ میں سے کسی نے بھی تحریک فتح کے رہنماؤں کے منہ سے مفاہمت کا لفظ سنا ؟‘‘ انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم کے درمیان مفاہمت کی باتیں فلسطینی اتھارٹی صرف اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی اچھی قیمت لگوانے کے لیے کر رہی تھی۔ تحریک فتح یا فلسطینی اتھارٹی کے رہنما کو مفاہمت صرف اس وقت یاد آتی ہے جب ان کے پاس فنڈز کی کمی ہو۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب رقوم فراہم کرنے والوں کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ انہوں نے کن شرائط پر اتھارٹی کو کرائے پر لیا ہے اور دیے گئے فنڈز کے بدلے اتھارٹی نے کس طرح مغربی کنارے میں حماس کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کرنی ہے اور ان کی سیاسی سرگرمیوں سے روکنا ہے۔
حماسی نےاستفسار کیا کہ ہمیں کب سمجھ آئے گا کہ اس حلقے سے کوئی امید وابستہ نہیں کی جا سکتی جس نے خود کو اسرائیل کے ہاتھوں میں بیچ دیا ہو اور جو اسی کی خواہشات پر عمل کرنے میں مخلص ہو۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار عبد الستار قاسم کا کہنا تھا کہ امریکا کبھی کسی کو بغیر کسی بدلے کے صدقہ خیرات نہیں دیتا۔ امریکی صدر اوباما اپنے ساتھ جو رقوم لائے تھے وہ مغربی کنارے میں اسرائیلی سکیورٹی کی حمایت کرنے کا معاوضہ تھا۔
’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اسی طرح فلسطینی اتھارٹی کو بھی سن 1993ء میں کیے گئے اوسلو معاہدے کی قیمت دی جارہی ہے، اس قیمت کے بدلے اتھارٹی کی فورسز نے اسرائیل کی حفاظت، مزاحمت کاروں کے کارروائیاں، مزاحمت کے حامیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
نہوں نے کہا کہ اتھارٹی کو ملنے والی حالیہ رقوم واضح طور پر اس کی خدمات کا صلہ ہیں، اوسلو میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے بعد ان خدمات کی فراہمی پر اتفاق ہو چکا ہے۔ اس موقع پر عبد الستار قاسم نے قطر کی جانب سے غزہ کی تعمیر نو کے لیے دی جانے والی رقوم اور یورپ اور امریکا کی جانب سے مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی رقوم میں یکسانیت کی تردید بھی کی، انہوں نے کہا کہ ایک رقم غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی مدد کے لیے دی جارہی ہے جبکہ دوسری رقوم مزاحمت کو کچلنے کے لیے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
