مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق لندن میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم”آرگنائزیشن آف عرب ہیومن رائٹس” کی جان سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کے ماتحت سیکیورٹی ادارے خواتین اور بچوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کررہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عباس ملیشیا کی جانب سے نہتی خواتین اور بچوں کو تشدد عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عباس ملیشیا کے اہلکاروں کی جانب سے گھروں پر چھاپوں کے دوران خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ بچوں کو گرفتار کرکے ان کی مائوں اور بہنوں کی تذلیل کی کوشش کی جاتی ہے۔ تلاشی کی آڑ میں گھروں کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جاتا ہے۔ حراست میں لی گئی خواتین پر تشدد کے وحشیانہ حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ عباس ملیشیا کے غیر قانونی ہھتکنڈوں کے نتیجے میں فلسطینی خواتین اپنی عزت وناموس کو بھی خطرے میں محسوس کررہی ہیں۔
رپورٹ میں حال ہی میں عباس ملیشیا کے ہاتھوں گرفتار ہونے والی خاتون غفران الزمل کے ساتھ سیکیورٹی اہلکاروں کے غیر انسانی سلوک کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ غفران کو سنہ 2009 ء میں اسرائیلی فوج نے گرفتار کیا اور 10 ماہ کے بعد انہیں رہا کیا گیا تھا۔ عباس ملیشیا اس سے قبل بھی غفران کو حراست میں لے کران پر تشدد کرچکی ہے۔
