اردن کی میزبانی میں فلسطینی انتظامیہ اور اسرائیل کے مابین راست مذاکرات کا دو ہفتے قبل شروع ہونے والا سلسلہ بات چیت کے نتائج میں ناکامی کے باوجود جاری ہے۔ فریقین کےمابین مذاکرات کا تیسرا دور آج عمان میں ہوگا۔ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات شریک ہوں گے۔
اسرائیلی ریڈیوکی رپورٹ میں حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی حکومت امریکا،یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ پر مشتمل گروپ چار کے ایک ماہ قبل جاری اس بیان کا پابند ہے۔ اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ امن مذاکرات کا سلسلہ نہ صرف جاری رکھنا چاہتا ہے بلکہ اس کی کامیابی کا بھی خواہاں ہے۔
ذرائع کےمطابق گروپ چار کی مساعی کے نتیجے میں اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کے درمیان پیش آئند چند ایام میں کسی سمجھوتے کا قوی امکان دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اسرائیل کے مذاکرات بالواسطہ نہیں بلکہ براہ راست مذاکرات ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے یہ کہنا غلط ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ راست مذاکرات نہیں کر رہی ہے۔
قبل ازیں فلسطینی مذاکرات کار صائب عریقات نے ایک بیان میں کہا تھا کہ "اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا عمل جاری رکھا تو وہ عمان مذاکرات کا سلسلہ روک دیں گے۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات کا عمل ایک سال قبل اس وقت معطل ہو گیا تھا کہ فلسطینی انتظامیہ نے مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی تعمیرکے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بات چیت ختم کر دی تھی۔ یہ بات چیت تین جنوری کو اردن کی میزبانی میں دوبارہ شروع ہوئی ہے جس کے اب تک دو ادوار ہو چکےہیں۔ مذاکرات میں فلسطینی اتھارٹی کے مذاکرات کار صائب عریقات، اردنی وزیرخارجہ ناصرجودہ ، گروپ چار کے سربراہ ٹونی بلیئر کے ایلچی اور اسرائیلی مذاکرات کار اسحاق مولخو شریک رہے ہیں۔

