مغربی کنارے میں تحریک فتح کے زیر انتظام قائم فلسطینی اتھارٹی پر مالی بدعنوانیوں کے الزامات تواتر سے لگتے چلے آرہے ہیں۔ حکومت کے تمام شعبوں اور اداروں میں کرپشن کے چرچے عام ہیں۔ ایک تازہ انکشاف کے مطابق حکومتی سپریم جوڈیشل کونسل کے عہدیداروں کی بڑی کرپشن کا پردہ چاک کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس اسکینڈل کی زد میں آنے والے تین عہدیداروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جب کہ مزید دو بدعنوان افسروں کی گرفتاری متوقع ہے۔ باخبر ذرائع نے رام اللہ کے مقامی ٹیلی ویژن چینل کو بتایا کہ کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا ایک شخص سپریم جوڈیشل کونسل کے اعلی عہدے پر فائز ہے جبکہ دوسرا بھی اسی کونسل کا ملازم ہے۔ تیسری شخصیت وزارت مالیات میں کام کرتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس ضمن میں مزید انکشافات متوقع ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ اس اسکینڈل میں ملوث مزید دو افراد کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے اور جلد ہی انہیں بھی گرفتار کرلیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق یہ کیس میں جن عہدیداران کا نام لیا جارہا ہے ان میں نو افراد شامل ہیں۔
باخبر ذرائع نے ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے نمائندے کو بتایا کہ گرفتار افراد پر لگائے گئے الزام کے مطابق ملازمین نے آپس میں ساز باز کرکے جوڈیشل کونسل کے بیس لاکھ شیکل ہڑپ کیے ہیں۔ اس معاملے میں کونسل کی اعلی سطحی شخصیت نے سب کی پردہ پوشی کی۔
ذرائع نے زور دیا کہ توقع کی جارہی ہے کہ اس کیس کی تحقیقات کے نتیجے میں جوڈیشل کونسل میں مزید کروڑوں ڈالرز کی کرپشن سے پردہ اٹھ جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس بااختیار حلقوں کی جانب سے اس کیس کی تحقیقات بند کروانے کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
