فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام جیلوں میں ڈالے گئے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں پر بدترین مظالم کا انکشاف کوئی نئی بات نہیں۔ حال ہی میں فلسطینی جیلوں سے رہائی پانے والے ایک نوجوان صحافی نے عقوبت خانوں میں سیاسی قیدیوں پر ہونے والے ہولناک تشدد کے چشم کشا انکشافات کیے ہیں۔
فلسطینی صحافی 27 سالہ محمد شکری عوض نے بتایا کہ اس نے ایک رام اللہ اتھارٹی کی جیل میں ایک ماہ قید کاٹی جہاں اس نے قید کیے گئے سیاسی کارکنوں پر بدترین مظالم کے مظاہر دیکھنے کو ملے ہیں۔
شکری عوض نے بتایا کہ عباس ملیشیا کے انٹیلی جنس حکام اور تفتیش کار سیاسی کارکنوں کو بجلی کے جھٹکے لگاتے، انہیں کوڑے مارے اور تشدد کے تمام دیگر ممنوعہ حربے بھی استعمال کرتے ہیں۔ قیدیوں کو بلا تفریق جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی تشدد کا سامنا رہتا ہے۔
عوض نے بتایا کہ اس نے فلسطینی اتھارٹی کی جیل میں 31 دن گذارے۔ یہ ایک ماہ کا عرصہ جہنم کی طرح مشکلات سے بھرپورتھا جہاں دن میں کئی کئی بار اسے تشدد کا نشانہ بنایاجاتا۔ عباس ملیشیا کے انٹیلی جنس اہلکار تازہ دم دستوں کی شکل میں قیدیوں پر تشدد کرتے۔ نیند کرنے سے مسلسل روکاجاتا اورمسلسل بیداری کے باعث اگرکسی کی آنکھ لگ جاتی تو اسے گھنٹوں کوڑے مارے جاتے۔
محمد شکری عوض کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عوض رہائی کے بعد بھی عدالت میں پیشی کے لیے جاتا ہے مگر وہ چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے کی سکت نہیں رکھتا۔ اس کا وزن ایک ماہ میں 15 کلو کم ہوگیا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں سیکڑوں سیاسی کارکنوں کو محض سیاسی جماعتوں سے وابستگی کی بنیاد پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ فلسطینی عدالتیں قیدیوں کو بری بھی کردیتی ہیں مگر عباس ملیشیا کے انٹیلی جنس حکام قیدیوں کو رہا نہیں کرتے اور ماورائے عدالت انہیں تشدد کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
