مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ایندھن کی سپلائی معطل ہونے کے باعث ہفتے کو علی الصباح مرکزی گریڈ اسٹیشن سے بجلی کی پیداوار میں غیرمعمولی کمی ہوگئی تھی اور لوڈ شیڈنگ کا دورانہ 6 گھنٹے سے بڑھ کر 14 اور 16 گھنٹے تک جا پہنچا تھا۔
غزہ کی پٹی میں بجلی سپلائی کرنے کی ذمہ دار کمپنی نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اس کے پاس مرکزی پاور اسٹیشن سے بجلی پیدا کرنے کے لیے درکار ایندھن ختم ہوچکا ہے۔ انہوں نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی انتظامیہ کو خام ایندھن کے بارے میں مطلع کیا ہے مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں بجلی کے بحران کے دیگر اسباب میں سب سے بڑا سبب اسرائیل کی جانب سے غزہ کی ناکہ بندی اور فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے بلیک میلنگ پر مبنی پالیسی ہے۔ اسرائیلی حکام غرب اردن سے غزہ کی پٹی کو خام ایندھن کی سپلائی میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کرتے رہتے ہیں۔ کئی بار خام تیل لے کرآنے والے ٹرکوں کو گذرگاہوں سے غزہ داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی جس کے باعث غزہ کی پٹی میں توانائی کا غیرمعمولی بحران پیدا ہوا۔
غزہ پاور سپلائی فرم کا کہنا ہے کہ مصر کی جانب سے بھی بجلی کی فراہم معطل کی جا چکی ہے۔ مصر کی طرف سے غزہ کو بجلی کی فراہمی میں تعطل کی وجہ سے بجلی بحران میں مزید 50 سے 60 فی صد اضافہ ہوا ہے۔
