امریکا کے غیر جماعتی سیاسی مرکز نے ریاست کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کو سکیورٹی انتظامات کی مد میں لاکھوں ڈالرز کی فراہمی پر شدید تنقید کی ہے۔ مرکز کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے فنڈز دینے والے ممالک کے ساتھ عدم تعاون نے واشنگٹن کے پروگرام کو غیر فعال کر دیا ہے۔
مرکز نے مزید انکشاف کیا کہ امریکا کی دونوں ڈپلومیٹک اینڈ ری پبلکن پارٹیوں نے اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز کو تربیت فراہم کی ہے۔ مرکز کےمطابق یورپی یونین نے فلسطینی پولیس کو تربیت فراہم کرنے کے پروگرام پر عمل کیا۔ فرانس نے اتھارٹی کی خفیہ ایجنسی کی مدد کی، کینیڈا نے جیلوں کی تعمیر جبکہ جاپان نے عدالتوں کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔
سابق امریکی سفیر بولاڈ ڈوبریانسکی اور ریٹائرڈ ایڈمرلگریگوری جانسن کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ کے مطابق امریکا کی خارجہ امور اور دفاعکی وزارتوں نے فلسطینی اتھارٹی کی پولیس کی تشکیل اور اتھارٹی کی وزارت داخلہ کےلیے وافر مقدار میں امدادی سامان فراہم کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے تعاون کاامریکی پروگرام دیگر تمام ممالک سے بڑا تھا تاہم یورپ، جاپان، چین، روس اور کینیڈا کی جانب سے بغیر مشاورت امداد کی فراہمی سے امریکی پروگرام کی اہمیت کم ہو کر رہگئی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا کا فلسطینی اتھارٹی پر کنٹرول ختم ہوتا گیا۔
رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا کہ امریکا کی مغربی کنارےمیں حالیہ کوششیں تعاون اور حمایت ختم کرنے کی تازہ مثال ہے۔ خیال رہے کہ اس سےقبل بھی امریکا کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کی امداد کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکا میں پیش کی جانے والی ان رپورٹوں کے مطابق امریکا نے صرف گزشتہ برس فلسطینی اتھارٹی کو 470 ملین ڈالرز کی امداد فراہم کی ہے۔

