برطانیہ میں سرگرم انسانی حقوق کی عرب تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی فورسز نے مغربی کنارے میں متعدد بچوں کو گرفتار کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ تنظیم کی جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ روز آدھی رات کو الخلیل کے گاؤں صافا سے چند نوعمر لڑکوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔
جمعہ کے روز جاری اس بیان کے مطابق عباس ملیشیا نے جن افراد کو گرفتار کیا ان میں سولہ سار محمد حسین الطیط، سولہ سالہ اسامہ بسام رضوان اخلیل، سولہ سالہ حسان ادم اخلیل، اٹھارہ سالہ عبد اللہ احمد رضوان خلیل، اٹھارہ سالہ انس حازم عبد الرحمن اخلیل، بیس سالہ محمد موسی ابو دیہ، بائیس سالہ محمود عماد اخلیل اور بیس سال کے موید حسن محمود الطیط شامل ہیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ سکیورٹی فورسز نے فلسطینیوں کے گھروں پر حملے کیے اور اہل خانہ کو شدید خوفزدہ کردیا۔ اس دوران گھروں کی خواتین اور دیگر خاندانی نازک حالات کی بھی کچھ بھی پرواہ نہیں کی گئی۔ گرفتار کیے گئے محمود عماد اخلیل یتیم ہیں اور ان کی والدہ آدھی رات کو گھر کا دروازہ بجنے پر شدید خوفزدہ ہوگئیں، اتھارٹی کی فورسز نے دروازہ کھولنے سے قبل ہی دروازے کو توڑنے کی کوششیں شروع کردی تھیں، دروازہ کھلنے کے بعد اہلکاروں نے گھر میں گھس کر گھر کی تلاشی لی اور سارا سامان الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔ اسی طرح گرفتار کیے گئے عبد اللہ کے والد بھی شدید بیمار ہیں، گرفتار کیے گئے لڑکوں میں بعض سیکنڈری سکول اور بعض یونیورسٹیوں کے طالب عمل ہیں، بے وجہ کی گئی ان گرفتاریوں کے سبب ان طلبہ کی پڑھائی کا بھی شدید حرج ہو رہا ہے۔
گرفتار افراد کو حلحول کی عدالت میں پیش کردیا گیا جہاں پر انہیں کوئی وکیل بھی میسر نہیں تھا، ذرائع کے مطابق ان لڑکوں اور نوجوانوں کو اس بنا پر گرفتار کیا گیا ہے کہ انہوں نے علاقے میں بائیس مارچ کو حماس کے بانی رہنما شیخ احمد یاسین کی آٹھویں برسی کے پوسٹر لگائے تھے۔ ان سب کو تفتیش کے لیے نو دنوں تک حراست میں منتقل کردیا گیا ہے۔
ان بچوں کو آدھی رات کو گرفتار کرکے بڑوں کی جیلوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ جہاں پر ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان بچوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بین الاقوامی معاہدوں اور عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بچوں کے تمام حقوق کو جوتے کی نوک پر رکھ کر ان سے تفتیش کی جارہی ہے۔
سانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی سالہا سال سے جاری اپنے ہی شہریوں کے خلاف کارروائیوں سے متعلق شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اتھارٹی کی فورسز اسرائیل اور امریکا کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی حمایت کرنے والے ہر فرد کو حراست میں لے کر تشدد اور دردناک عذاب کا مستحق بنا دیا جاتا ہے۔
برطانیہ میں سرگرم عرب تنظیم نے اقوام متحدہ، عرب لیگ اور اسلامی تعاون کونسل سے اپیل کی کہ وہ فلسطینی اتھارٹی پر دباؤ بڑھا کر اسے انسانی اور بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی سے باز رکھیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
