فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز نے اسلامی تحریک مزاحمت۔ حماس کے کارکنوں، رہنماؤں اور حامیوں کی گرفتاری کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے قلقیلیہ اور نابلس سے حماس کے دو رہنماؤں کو اغوا کر لیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نےبھی الخلیل سے ایک یونیورسٹی طالب علم کو حراست میں لیا۔
ادھر سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیے گئے معروف فلسطینی رہنما معاذ ابو اجحیشہ کے بارے میں موصولہ اطلاعات کے مطابق ان کی صحت کی حالت انتہائی ابتر ہو گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق قلقیلیہ میں عباس ملیشیا نے مرکز تحفیظ القرآن کے ڈائریکٹر شیخ عوض عودہ کو حراست میں لے لیا، شیخ عوض ان فلسطینی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہیں 1992ء میں اسرائیل نے لبنان کے علاقے مرج الزھور کی جانب در بدر کر دیا تھا۔ عباس ملیشیا نے انہیں تفتیش کے لیے طلب کر کے حراست میں لیا، ملیشیا اس سے قبل بھی انہیں متعدد مرتبہ گرفتار کر چکی ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز نے نابلس میں بھی ایک ایسی ہی کارروائی کی اور اسرائیلی جیلوں میں رہنے والے ایک سابق فلسطینی اسیررہنما ایمن حبیشہ کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کر لیا، حبیشہ ساڑھے تین سالاسرائیلی عقوبت خانوں میں قید و بند کی صعوبتیں کاٹ چکے ہیں۔
ادھر عباس ملیشیا کی جانب سے گرفتاری کے بعد رہا ہونے والے ایک فلسطینی شہری اسرائیلی فوج کے ہتھے چڑھ گیا، القدس یونیورسٹی کے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے طالب علم کے گھر پر چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

