فلسطینی اتھارٹی کی فورسز نے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کے خلاف عوامی فرنٹ برائے آزادی فلسطین کی جانب سے منعقدہ مارچ کو روک دیا۔ پی ایف ایل پی کے سینکڑوں حمایتی رام اللہ میں آرتھوڈوکس کلب کے قریب اکٹھے ہوئے اور انہوں نے مقاطعہ کی جانب مارچ کرن اشروع کردیا مگر انہیں ارسل سٹریٹ پر فلسطینی اتھارٹی فورسز کی جانب سے روک دیا گیا۔
مظاہرے کے شرکاء نے پولیس اہلکاروں سے تصادم سے اجتناب کیا اور اوسلو معاہدوں کے خلاف نعرے بازی کی اور مزاحمت سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض حکام کے خلاف کارروائی کرے۔
پی ایف ایل پی کے پولیٹیکل بیورو کی رکن خالدہ جرار نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات کو ختم کردے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کو مذاکرات میں فلسطینی عوام کی نمائندگی کا حق نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کی جانب سے آبادکاری کی بڑھتی سرگرمیوں اور یہودی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر بڑھتے حملوں کے باجود مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔
مارچ میں شرکت کرنے والے حماس رہنما جمال التاویل نے کہا ہے کہ یہ بے مقصد مذاکرات فلسطینی عوام کو فائدہ پہنچانے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس نے ان مذاکرات کے آغاز سے ہی ان کی مخالفت کررکھی ہے۔
تاویل نے کہا ہے کہ ہمیں اس وقت تمام معاملات کو احسن طریقے سے نمٹانے کے لئے ایک قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ ایسے اہم معاملات میں یکطرفہ فیصلوں کی جگہ نہ رہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلطین
