خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ علا جبر نے 2000 ڈالر کی رقم اپنے بنک اکاونٹ میں منتقل کرائی ہے جب کہ انسانی حقوق کے گروپ اور اسیر کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کی وجہ سے اس کی تنخواہ رکی ہوئی تھی جو کہ تاخیر کے ساتھ جاری ہوئی ہے۔ اس پر فلسطینی اتھارٹی نے اسے بلا جواز منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کرلیا ہے۔
فلسطین میں ذرائع ابلاغ کے کارکنوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ’’مدیٰ‘‘ کی جانب سے جاری ایک بیان میں علاء الطیطی کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسیر صحافی کے بھائی کا کہنا ہے کہ الطیطی کو فلسطینی انٹیلی جنس حکام نے دو نومبر کو ایک حراستی مرکز میں طلب کیا جہاں اسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
علاء جبر الطیطی کو کل اتوار کو بھی عدالت میںپیش کیا گیا اور پولیس حکام نے اس سے مزید تفتیش کے لیے 48 گھنٹے کا وقت حاصل کرلیا۔
خیال رہے کہ فلسطینی حکام نے اقصیٰ ٹی وی کے نامہ نگار پر منی لانڈرنگ کا یہ بے سروپا الزام ایک ایسے وقت میں تھوپا ہے جب حال ہی میں ایک دوسرے صحافی غسان جمال نجاجرہ کو سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک پر فرقہ وارانہ نعرے پوسٹ کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ تاہم بیت لحم کی فلسطینی مجسٹریٹ عدالت نے اسے بری قرار دے کر فوری رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
